چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
مشکوٰۃ المصابیح
کتاب: آداب کا بیان
باب: چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
حدیث نمبر: 4743
وَعَن أبي\nهريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\n
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے۔‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔\nاور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا: میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کیا ہے۔\n

اس حدیث کو شیئر ضرور کریں جزاک اللہ
ReplyDelete