Posts

پسند کی شادی

Image
🌸 پسند کی شادی: اسلام کا عدل و توازن 🌸   تحریر: لقمان شاہد ✦ حدیثِ مبارکہ کا حوالہ:   حضرت اُمّ سائب رضی اللہ عنہا کے والد نے اپنی مرضی سے ان کا نکاح کر دیا، لیکن بیٹی نے انکار کر دیا اور کہا:   "میں نے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے شادی کرنی ہے۔"   جب معاملہ رسولِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:   "یہ عورت اپنے معاملے کی زیادہ حق دار ہے، جہاں یہ چاہتی ہے وہیں اس کی شادی کی جائے۔"   (مسند احمد بن حنبل: حدیث 6898) 📌 اسلامی نکاح کا تصور: 1. نکاح زبردستی نہیں ہو سکتا — اسلام نے لڑکی کو نکاح میں رائے دینے کا مکمل اختیار دیا ہے۔ 2. والدین کا احترام اور رہنمائی اہم ہے — اولیاء کا مشورہ لینا ضروری ہے، لیکن ان کی ضد یا جبری فیصلے اسلام کا حصہ نہیں۔ 3. بیٹی کی پسند اور ناپسند کو سننا ضروری ہے — یہ نہ صرف شرعی تقاضا ہے بلکہ معاشرتی سکون کی بنیاد بھی۔ ⚠️ موجودہ دور کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال: ❌ مجرمانہ "عشق و معشوق" کا کلچر: - موبائل، سوشل میڈیا اور فحاشی نے نکاح جیسے مقدس بندھن کو مذاق بنا دیا۔ - لڑکیاں گھر سے بھاگنے لگی...

: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

 صحیح بخاری کتاب: ایمان کا بیان باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے https://youtu.be/p1NVpUGSYz8 حدیث نمبر: 8 حدیث نمبر: 8   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏وَصَوْمِ رَمَضَانَ. ترجمہ: ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے یہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کی بابت حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی۔ انہوں نے عکرمہ بن خالد سے روایت کی انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ...

چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان

Image
 مشکوٰۃ المصابیح کتاب: آداب کا بیان باب: چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان حدیث نمبر: 4743 وَعَن أبي\nهريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ\n ترجمہ: ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں:’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے۔‘‘ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔\nاور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا: میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کیا ہے۔\n

🕌 نماز – سکونِ قلب کا ذریعہ

  🕌 نماز – سکونِ قلب کا ذریعہ نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے قربت کا سب سے عظیم ذریعہ ہے۔ یہ وہ خاص لمحے ہیں جب بندہ براہِ راست اپنے رب سے بات کرتا ہے، اپنے دل کا حال کہتا ہے، اور اُس سے سکون پاتا ہے۔ جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو جائیں، تو سجدہ وہ دروازہ ہے جو ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔ نماز انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے، دلوں کو پاک کرتی ہے اور روح کو طاقت دیتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: > "اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الفَحۡشَآءِ وَ المُنۡكَرِ" “بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے” (سورۃ العنکبوت: 45) ہم سب کو چاہیے کہ نماز کو صرف فرض نہ سمجھیں، بلکہ زندگی کا حصہ، دل کا سکون، اور کامیابی کی کنجی بنائیں۔ آج سے عہد کریں: وقت پر نماز ادا کریں دل سے پڑھیں اور دوسروں کو بھی اس عظیم نعمت کی طرف بلائیں نماز پڑھو، کامیاب ہو جاؤ!